وزیراطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہاہے کہ پنجاب میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے، 10 لاکھ 12 ہزار سے زائد افراد کے پاس انفرادی اسلحہ لائسنس ہیں، 28 اسلحہ ڈیلرز کے لائسنس منسوخ کر دیئے گئے ہیں، 37 ہزار اسلحہ لائسنس سیکیورٹی کمپنیوں اور 42 ہزار مختلف اداروں کے نام پر جاری ہیں، تمام لائسنس یافتہ اسلحہ کو خدمت مراکز میں رجسٹر کرانا لازمی ہے جبکہ غیر قانونی اسلحہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور اسے سرنڈر کرنا ہو گا۔
ڈی جی پی آر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہ حکومت نے مذہبی جماعت کی جانب سے پرتشدد کارروائیوں کے ثبوت میڈیا کے سامنے پیش کر دیے ہیں، اس جماعت نے پولیس سے چھینا گیا اسلحہ اور سامان پولیس کے خلاف استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد پولیس اہلکار شہید اور زخمی ہوئے۔
عظمیٰ بخاری نے گولیوں، زخمی اہلکاروں اور جائے وقوعہ کی ویڈیوز اور تصاویر میڈیا کے سامنے پیش کیں اورکہاکہ 2021 میں بھی اسی مذہبی جماعت نے پولیس سے اسلحہ چوری کیا تھا اور اس بار بھی وہی چوری شدہ اسلحہ استعمال کیا گیا، جماعت کی جانب سے سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز مواد شیئر کیا گیا جو عوامی انتشار کا باعث بنا۔
صوبائی وزیراطلاعات نے کہا کہ انتہاپسند سوچ اور گروہوں کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے، اور یہ کسی مذہب یا عقیدے کے خلاف نہیں بلکہ شدت پسندی کے خاتمے کے لیے اقدام ہے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ زبردستی ہڑتال کرانے، دکانیں بند کروانے یا ٹرانسپورٹ روکنے کی کسی بھی کوشش پر سخت کارروائی کی جائے گی اور ایسے اقدامات کرنے والوں پر دہشت گردی کے مقدمات درج ہوں گے، انتہاپسند تنظیموں کو تشہیر، پوسٹرز، فلیکس یا دیگر اشتہارات لگانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، کوئی مسجد بند نہیں کی گئی، نماز جمعہ معمول کے مطابق ادا ہوگی۔
صوبائی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ غیر قانونی افغانیوں اور مذہبی انتہاپسندوں کے بارے میں اطلاع دینے کے لیے شہری 15 پر کال کر سکتے ہیں اور معلومات فراہم کرنے والے کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔ پنجاب میں تمام غیر ملکی اور غیر قانونی افراد کے کاروبار اور رہائش سے متعلق تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں، اور ہر ضلع میں ایسے افراد کو منتقل کرنے کے لیے مراکز قائم کیے جا رہے ہیں، کسی بھی غیر ملکی شہری کو پراپرٹی لیز یا کرائے پر دینا قانونی جرم ہے اور اس پر کارروائی ہو گی۔
عظمیٰ بخاری نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں تاکہ وہ کسی غلط سرگرمی میں شامل نہ ہوں۔
انہوں نے کہا کہ کچھ جماعتوں نے اسلام کا نام استعمال کر کے غیر مسلموں کے ساتھ ظلم کیا حالانکہ اسلام محبت، رواداری اور بھائی چارے کا مذہب ہے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں غیر قانونی اسلحہ کی کوئی گنجائش نہیں، ایسے سپلائرز کے خلاف کارروائی جاری ہے، صوبے سے غیر قانونی اسلحہ کا خاتمہ حکومت کا ہدف ہے کیونکہ اتنے ہتھیاروں کے ہوتے امن قائم نہیں رہ سکتا۔ مریم نواز کی ہدایت پر ایک پراسیکیوشن سیل قائم کیا گیا ہے جو نقصان کا مکمل تخمینہ لگائے گا، زخمیوں، چوری شدہ سامان اور تباہی کی تفصیلات مرتب کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر انتشار پھیلانے والوں کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی اختیار کی گئی ہے، افغان یا کسی بھی غیر قانونی باشندے کو جلد ملک سے واپس بھیجا جائے گا۔ والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کو ایسے کاموں سے روکیں جن کا نتیجہ سنگین ہو سکتا ہے۔ انتہاپسند جماعت سے متعلق حتمی فیصلہ وفاقی حکومت جلد کرے گی۔





