پاکستان پروفیشنل یونین آف جرنلسٹس کی روزنامہ پروان کے رپورٹر عامر سواتی کے خلاف مبینہ جھوٹی ایف آئی آر کے اندراج اور گرفتاری کی مزمت

کراچی (بیورورپورٹ)پاکستان پروفیشنل یونین آف جرنلسٹس (کراچی) کے صدر شیخ حارث اور مرکزی کابینہ نے روزنامہ پروان کے رپورٹر عامر سواتی کے خلاف مبینہ جھوٹی ایف آئی آر کے اندراج اور گرفتاری کے واقعے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے آزادیٔ صحافت پر ایک اور سنگین حملہ قرار دیا ہے۔

اپنے مشترکہ بیان میں شیخ حارث کا کہنا تھا کہ صحافیوں کو سچ لکھنے اور عوامی مفاد کے امور اجاگر کرنے کی پاداش میں جھوٹے مقدمات میں الجھانا، ہراساں کرنا اور گرفتار کرنا ایک خطرناک روایت بنتی جا رہی ہے جو نہ صرف آئین میں دی گئی آزادیٔ اظہار کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ جمہوری اقدار کے بھی منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافت کوئی جرم نہیں اور صحافیوں کو دباؤ میں لا کر حقائق چھپانے کی کوششیں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی۔ پاکستان پروفیشنل یونین آف جرنلسٹس کے مرکزی چیئرمین سید مجتبیٰ بخاری نے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں عامر سواتی کے خلاف درج مقدمہ بادی النظر میں بدنیتی اور انتقامی کارروائی کا شاخسانہ معلوم ہوتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس مقدمے کو فوری طور پر ختم کیا جائے اور واقعے کی غیر جانبدارانہ، شفاف اور اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائی جائیں تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں۔ اسی طرح پاکستان پروفیشنل یونین آف جرنلسٹس کے مرکزی صدر سید خاور علی شاہ نے بھی عامر سواتی کی گرفتاری کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اختیارات کا اس طرح استعمال صحافتی حلقوں میں شدید بے چینی پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر صحافیوں کے خلاف اس قسم کی کارروائیاں نہ رکیں تو پاکستان پروفیشنل یونین آف جرنلسٹس ملک بھر میں صحافی برادری کے ساتھ مل کر ہر آئینی اور جمہوری آپشن استعمال کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔ مرکزی کابینہ نے مطالبہ کیا کہ صحافی عامر سواتی کو فوری طور پر رہا کیا جائے، جھوٹی ایف آئی آر فی الفور واپس لی جائے اور صحافیوں کے خلاف بغیر تصدیق و شفاف تحقیقات مقدمات درج کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔ پاکستان پروفیشنل یونین آف جرنلسٹس اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ وہ صحافیوں کے حقوق، آزادیٔ صحافت اور سچ کی آواز کے تحفظ کے لیے ہر فورم پر بھرپور جدوجہد جاری رکھے گی۔