برڈ فلو کی نایاب بیماری ایچ 5 این 5 کے باعث انسانی موت کا پہلا کیس سامنے آگیا، صحت کے متعلقہ محکمے واقعے کے بعد متحرک ہوگئے۔امریکا میں برڈ فلو کے ایک نایاب بیماری اسٹرین ایچ 5 این 5 سے پہلے انسان کی موت کا واقعہ پیش آیا ہے جس کے بعد متعلقہ محکمہ صحت کی دوڑیں لگ گئی ہیں، مذکورہ شخص کی موت کی تصدیق کے بعد ماہرین یہ بات بھی واضھ کی ہے کہ اس وقت عام آبادی کے لیے خطرہ نہایت کم ہے۔واشنگٹن اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ آف ہیلتھ کے مطابق مرنے والا شخص گریز ہاربر کاؤنٹی میں رہائش پذیر ایک بزرگ شہری تھا جو پہلے ہی کئی طرح کی پیچیدہ صحت مشکلات کا شکار تھا۔ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ کمزور مدافعتی نظام اور پہلے سے موجود بیماریوں کی وجہ سے وائرس نے سنگین صورت اختیار کی جس کے نتیجے میں جان لیوا پیچیدگیاں پیدا ہوئیں۔مرنے والے بوڑھے شخص کا رابطہ براہِ راست گھریلو پرندوں سے تھا، اس کے گھر کے پچھلے حصے میں مرغیوں اور دیگر پرندوں کا مشترکہ جنھڈ موجود تھا جبکہ چند دن قبل دو پرندوں کی موت بھی واقع ہوئی تھی۔ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ وائرس کی منتقلی کا ذریعہ یا تو متاثرہ گھریلو پرندے تھے یا پھر وہاں آنے والے جنگلی پرندے، جو اس علاقے میں باآسانی داخل ہو سکتے تھے، ان وجوہات کی بنا پر بزرگ شخص تک وائرس منتقل ہوا۔حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ شخص کے قریبی افراد میں سے کسی میں بھی برڈ فلو کی علامات یا منتقلی کے ثبوت نہیں ملے ہیں۔سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونشن (سی ڈی سی) نے عوام کی اطلاع کےلیے واضح کیا ہے کہ کہا ہے کہ بزرگ شخص کی موت کے باوجود عام لوگوں کے لیے خطرہ انتہائی کم ہے، تاہم نگرانی کا عمل مزید سخت کیا جا رہا ہے۔وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کے امکانات کا جائزہ لیا جارہا ہے، وائرس کا جینیاتی تجزیہ حیرت انگیز تبدیلیوں کی نشاندہی کرسکتا ہے، اسی لیے سائنسی تحقیق جاری ہے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ امریکہ میں ایچ 5 این 1 اسٹرین 2022 سے مختلف جانوروں اور محدود انسانی آبادی میں موجود ہے یہ اسٹرین دودھ دینے والی گایوں، جنگلی پرندوں، پولٹری اور چند انسانوں میں بھی پایا گیا۔گزشتہ سال 2024 سے 2025 کے درمیان ملک میں ایچ 5 برڈ فلو کے 71 انسانی کیس سامنے آئے جن میں زیادہ تر علامات نہایت ہلکی نوعیت کی تھیں اور کسی کےلیے یہ جان لیوا نہیں تھی۔ماہرین صحت عوام کو مشورہ دیا ہے کہ بیمار یا مردہ پرندوں کو چھونے سے گریز کریں، پولٹری فارم میں کام کرنے والے افراد حفاظتی سامان استعمال کریں، اور بیماری کی علامات پر فوری طبی رابطہ کریں۔





