معاشی تھنک ٹینک ایکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ کا بڑھتے تجارتی خسارے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے چیئرمین اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ گوہر اعجاز کا کہنا ہے کہ بڑھتا تجارتی خسارہ ادائیگیوں کے بحران کا خطرہ ہے۔
سابق نگران وفاقی وزیر تجارت اور معاشی تھنک ٹینک ایکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ کے چیئرمین گوہر اعجاز نے ملکی برآمدات میں کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلی سہ ماہی میں تجارتی خسارہ 33.8 فیصد اضافے سے 9 ارب 43 کروڑ ڈالرز تک پہنچ چکا، فوڈ گروپ کی برآمدات میں 27 فیصد کمی سے ایکسپورٹ کو بڑا دھچکا لگا ،اسی دوران ٹرانسپورٹ گروپ کی درآمدات میں 142 فیصد اور ٹیکسٹائل کی درآمدات بھی 44 فیصد بڑھ چکی ہیں۔
گوہر اعجاز نے کہا کہ تجارتی عدم توازن بنیادی اصلاحاتی خامیوں کی نشاندھی کر رہا ہے، ملکی برآمدات کی بنیادی سطح انتہائی کم ہے، برآمدات کم ویلیو اور غیر متنوع ہیں جبکہ ملکی درآمدات کھپت پر مبنی اور غیر یقینی ہیں، برآمدات پر مبنی معیشت ان مسائل واحد حل ہے، ملکی برآمدات کو مسابقتی بنایا جائے، برآمدات میں جدت اور پروڈکٹیویٹی کو بڑھایا جائے ، برآمدات کا دائرہ کار وسیع کیا جائے، ان مسائل کو حل کیے بغیر پاکستان کو ادائیگیوں کے بحران کا سامنا کرنا پڑتا رہے گا، پاکستان کو بوم اینڈ بسٹ سائیکل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ ایکنامک پالیسی اینڈ ڈویلپمنٹ نے کہا ہے کہ ملکی برآمدات کی راہ میں مہنگی بجلی بڑی رکاوٹ ہے ، برآمدی صنعتوں کو 12 سے 14 سینٹ فی یونٹ میں بجلی فراہم کی جا رہی ہے جبکہ علاقائی مملک میں بجلی 6 سے 9 سینٹ فی یونٹ میں فراہم کی جا رہی ہے مہنگی کاروباری لاگت برآمدی صنعتوں کے لیے سرمائے کی قلت پیدا کر رہی ہے جبکہ ریگولیٹری پیچیدگیاں صنعتی ترقی کی راہ میں بھی رکاوٹیں پیدا کرتی ہیں۔
ایکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ نے سفارش کی ہے کہ بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے کو روکنے کے لیے پالیسیوں پر نظر ثانی کی جائے ، غذائی تحفظ یقینی بنانے کے لیے کاشتکاروں کے فائدے کے لیے زرعی پالیسی مرتب کی جائے۔





