ڈپریشن ایک پیچیدہ ذہنی مرض ہے جس کے شکار افراد اکثر اداس رہتے ہیں جبکہ ہر وقت بے بسی کا احساس بھی ہو سکتا ہے۔مگر ڈپریشن محض ‘دماغ’ تک محدود رہنے والا مرض نہیں بلکہ اس کے نتیجے میں جسم بھی متاثر ہوتا ہے۔ڈپریشن کے شکار افراد کے لیے ان سرگرمیوں میں دلچسپی ختم ہو جاتی ہے جن میں انہیں دلچسپی ہوتی ہے جبکہ منفی خیالات کا غلبہ رہتا ہے۔اب تک ماہرین یہ جاننے میں ناکام رہے ہیں کہ لوگوں کو اس بیماری کا سامنا کیوں ہوتا ہے۔مگر اب انہوں نے ایک اہم ممکنہ وجہ کو دریافت کیا ہے اور وہ ہے دماغی توانائی میں کمی۔یہ بات چین میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔سدرن میڈیکل یونیورسٹی کی اس تحقیق میں چوہوں پر تجربات کیے گئے اور دیکھا گیا کہ adenosine triphosphate (اے ٹی پی) نامی مرکبات کے سگنل ڈپریشن اور انزائٹی پر کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں۔اے ٹی پی خلیات کو توانائی فراہم کرنے والا اہم ذریعہ مانے جاتے ہیں جبکہ یہ اعصاب کے باہمی رابطوں کے لیے ایک کیمیائی میسنجر کا کردار بھی ادا کرتے ہیں۔تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ طویل المعیاد تناؤ سے اے ٹی پی کی سطح گھٹ گئی اور چوہوں میں ڈپریشن اور انزائٹی جیسی علامات پیدا ہوگئیں۔محققین نے پھر جائزہ لیا کہ اے ٹی پی کا اخراج کم ہونے سے مزاج پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔انہوں نے جینیاتی طور پر اے ٹی پی کا اخراج کم کیا تو چوہوں میں ڈپریشن اور انزائٹی سے متعلق علامات نمایاں ہوگئیں۔انہوں نے بتایا کہ یہ اولین راہ راست شواہد ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ اے ٹی پی کا اخراج ڈپریشن اور انزائٹی پر اثرانداز ہوتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ڈپریشن اور انزائٹی اکثر بیک وقت آپ کو شکار بناتے ہیں اور اکثر تشخیص تاخیر سے ہوتی ہے۔اس تحقیق کے نتائج جرنل آف نیورو سائنس میں شائع ہوئے۔اس سے قبل جنوری 2023 میں چین کی فوجان یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ ٹی وی یا دیگر اسکرینوں کے سامنے زیادہ وقت گزارنے سے ڈپریشن سے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھتا ہے
تحقیق میں بتایا گیا کہ اسکرین کے سامنے گزارے جانے والا ہر گھنٹہ کسی فرد میں ڈپریشن کا خطرہ 5 فیصد تک بڑھا دیتا ہے۔اس سے قبل بھی تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا تھا کہ اسمارٹ فون، کمپیوٹر یا دیگر اسکرینوں کے سامنے بہت زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنا ذہنی امراض کا خطرہ بڑھاتا ہے۔





